کل کا دھوکا

صحرا میں چلتا ہوا ایک اکیلا شخص جو دور نظر آنے والے سراب کی طرف بڑھ رہا ہے

تمہید

لفظ کل بظاہر ایک عام سا لفظ ہے، مگر حقیقت میں یہی لفظ بے شمار خوابوں کے ضائع ہونے کی خاموش وجہ بنتا ہے۔ ہم اکثر خود کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں کہ ابھی نہیں، کل کر لیں گے۔ ہم نہ انکار کرتے ہیں اور نہ آغاز، بس بات کو آگے دھکیل دیتے ہیں۔

کل دراصل وقت نہیں، بلکہ سوچنے کا ایک انداز ہے۔


ہم کل کو کیوں پسند کرتے ہیں؟

کل ہمیں وقتی سکون دیتا ہے۔ یہ ہمیں یہ محسوس کراتا ہے کہ ہم نے خواب چھوڑا نہیں، صرف مؤخر کیا ہے۔ ہم خود سے یہ وعدہ کر لیتے ہیں کہ مناسب وقت پر ضرور کریں گے۔

یہی سوچ سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے، کیونکہ اس میں انسان خود کو بھی دھوکا دیتا ہے اور وقت بھی ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے۔


خوابوں کی خاموش قبر

ذرا رک کر سوچیے:

  • کتنے اچھے خیالات آپ کے ذہن میں آئے؟
  • کتنے منصوبے آپ نے بنائے؟
  • کتنی مثبت عادتیں اپنانے کا ارادہ کیا؟

اور ہر بار کہا: کل۔

وقت گزرتا رہا، دن بدلتے رہے، مگر خواب وہیں کے وہیں رہ گئے۔ یوں کل آہستہ آہستہ خوابوں کی خاموش قبر بن جاتا ہے، جہاں نہ شور ہوتا ہے اور نہ احساس، بس نقصان ہی نقصان۔


وقت آپ کا انتظار نہیں کرتا

اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وقت ہمارے ساتھ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ وقت ایک ایسا سرمایہ ہے جو مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔

وقت نہ آپ کے موڈ کو دیکھتا ہے، نہ بہانوں کو مانتا ہے، اور نہ خوف کو جواز بناتا ہے۔ وہ چلتا رہتا ہے، چاہے آپ آگے بڑھیں یا رک جائیں۔


کامیابی انتظار نہیں کرتی

کامیابی نہ سب سے ذہین لوگوں کو ملتی ہے اور نہ ہی سب سے زیادہ پرجوش لوگوں کو۔ کامیابی انہیں ملتی ہے جو فیصلہ کرتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔

آج اٹھایا گیا ایک چھوٹا سا قدم، کل کی سو نیتوں سے کہیں زیادہ طاقت رکھتا ہے۔

شروع کیجیے، چاہے دل میں خوف ہو، چاہے راستہ پوری طرح واضح نہ ہو۔ عمل ہی آگے کا راستہ دکھاتا ہے۔


کل کے دھوکے سے نکلنے کے طریقے

  1. کل کو آج میں بدلیے: خود سے پوچھیں کہ میں ابھی کون سا چھوٹا قدم اٹھا سکتا ہوں۔
  2. موڈ کا انتظار نہ کریں: نظم و ضبط وہ کام کر دکھاتا ہے جو جذبہ نہیں کر پاتا۔
  3. عمل کو اپنی پہچان بنائیں: یہ کہنے کے بجائے کہ میں کوشش کروں گا، کہیں کہ میں کرنے والا انسان ہوں۔
  4. نقصان کو یاد رکھیں: آج کی تاخیر مستقبل کا سیدھا نقصان ہے۔

اختتامیہ

کل بذاتِ خود برا نہیں، مگر جب یہ عادت بن جائے تو سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ خواب ایک دن میں ختم نہیں ہوتے، وہ روز روز کی تاخیر سے دم توڑتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

آپ نے کتنے خواب لفظ کل کے ساتھ دفن کر دیے؟

شاید آغاز کا بہترین وقت… یہی لمحہ ہے۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے