کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ دو انسان ایک جیسے حالات میں ہوتے ہیں، مگر ایک آگے بڑھ جاتا ہے جبکہ دوسرا وہیں رکا رہ جاتا ہے؟ فرق حالات کا نہیں ہوتا — فرق سوچ کا ہوتا ہے۔ اصل فرق خود شناسی اور خود فریبی کے درمیان ہے۔
انسان کی زندگی محض سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ شعور، انتخاب اور باطن کی مسلسل کشمکش ہے۔ ہر انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک وہ جو اسے حقیقت، سکون اور روشنی کی طرف لے جاتا ہے، اور دوسرا وہ جو اسے خود ساختہ تسلیوں، جھوٹے بہانوں اور اندرونی اندھیروں میں بھٹکا دیتا ہے۔
خود شناسی — اپنی حقیقت سے ملاقات
خود شناسی اپنی ذات کے آئینے میں جھانکنے کا نام ہے۔ یہ اپنی طاقتوں پر شکر اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف ہے۔ یہ اپنی غلطیوں سے فرار نہیں بلکہ انہیں قبول کر کے خود کو بہتر بنانے کی جرات ہے۔
سقراط نے کہا تھا:
اپنے آپ کو پہچانو — یہی اصل حکمت ہے۔
اسلامی روایت میں امام علیؑ کا فرمان ہے:
جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
یہ اقوال ہمیں بتاتے ہیں کہ خود شناسی محض نفسیاتی عمل نہیں بلکہ روحانی بیداری بھی ہے۔ جب انسان خود کو جان لیتا ہے تو اس کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے، اور وہ دوسروں سے برتر ہونے کے دعوے چھوڑ دیتا ہے۔
خود فریبی — اپنی ذات سے فرار
اس کے برعکس، خود فریبی اپنی حقیقت سے بھاگنے کا نام ہے۔ یہ کمزوری کو طاقت کہنا، غلطی کو درست ثابت کرنا، اور ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔
قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے:
وہ اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔
Edward Bulwer-Lytton کے مطابق، سب سے آسان انسان جسے دھوکہ دیا جا سکتا ہے، وہ خود انسان ہے۔
خود فریبی وقتی سکون تو دے دیتی ہے، مگر آہستہ آہستہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی اصل صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
فلسفیانہ زاویہ
اسلامی فکر میں خود شناسی تزکیۂ نفس کی بنیاد ہے، جبکہ خود فریبی نفاق کی جڑ۔ Existentialism اسے bad faith کہتا ہے، یعنی اپنی آزادی اور ذمہ داری سے بھاگ جانا۔ Stoic فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقت کو قبول کرنا ہی اصل سکون ہے، اور اس سے انکار اضطراب کو جنم دیتا ہے۔
جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے
جب انسان خود شناسی اختیار کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کے دل میں سکون اترتا ہے۔ یہ سکون اس کی سوچ کو واضح کر دیتا ہے، اور اسی وضاحت کے نتیجے میں اس کے فیصلے درست ہونے لگتے ہیں۔
درست فیصلے اسے اپنے تعلقات بہتر بنانے کا شعور دیتے ہیں۔ وہ دوسروں کو سمجھنے لگتا ہے، برداشت سیکھتا ہے اور اپنے رویے میں توازن پیدا کرتا ہے۔ یوں اس کے رشتے مضبوط ہوتے جاتے ہیں اور اعتماد کی فضا قائم ہونے لگتی ہے۔
جب دل مطمئن ہو، فیصلے درست ہوں اور تعلقات مضبوط ہوں، تو انسان خود بخود ترقی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ یہ ترقی صرف ظاہری نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور روحانی بھی ہوتی ہے۔
خود فریبی کے نتائج
اس کے برعکس، خود فریبی وقتی تسلی دیتی ہے مگر وقت کے ساتھ اندرونی تضاد بڑھ جاتا ہے۔ انسان بار بار ایک ہی غلطیاں دہراتا ہے، ناکامیوں کا شکار ہوتا ہے اور اس کے تعلقات میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں، کیونکہ جہاں سچ نہ ہو وہاں اعتماد بھی باقی نہیں رہتا۔
خود شناسی کا راستہ
خود شناسی کے سفر کے لیے انسان کو خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے، اپنے اندر جھانکنا ہوتا ہے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوتا ہے اور مخلص لوگوں کی صحبت اپنانی پڑتی ہے۔ قرآن اور حکمت کے آئینے میں اپنی ذات کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل دشمن باہر نہیں بلکہ اندر ہوتا ہے، اور اصل کامیابی اپنی ذات پر قابو پانے میں ہے۔
اختتامیہ
خود شناسی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر یہی حقیقی آزادی ہے۔ خود فریبی آسان لگتی ہے، مگر یہی غلامی کا آغاز ہے۔
جو شخص اپنی حقیقت کو پہچان لیتا ہے وہ نہ صرف اپنے اندر سکون پاتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں — شاید کسی کی زندگی کا رخ بدل جائے۔